ہم آپ کی اورآپ اللہ کی عدالت میں ہیں ۔سینیٹر سراج الحق پانامہ کیس بنچ کےسامنے گفتگو

اسلام آباد(ٹی ڈی پی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کمرہ عدالت میں پانامہ کیس کے بنچ کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آپ کی اورآپ اللہ کی عدالت میں ہیں ۔قوم کو اپنی سب سے بڑی عدالت سے انصاف کی امید ہے ۔پانامہ کیس کا فیصلہ جو بھی ہوحکومتی ساکھ ختم ہوگئی ہے ۔اس کیس سے پاکستان کی تقدیر وابستہ ہے ۔حکمران خاندان 80ءمیں کنگال اور 90میں اقتدار ملنے کے بعد یکا یک کھرب پتی کیسے ہوا اور اتنی بڑی معاشی ایمپائرکیسے کھڑی ہوئی؟اس کا جواب آنا ضروری ہے ،ہم نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے سے پہلے نیب کو درخواست دی تھی مگر وہ اندھا بہرا اور گونگا ثابت ہوا،اور حکمرانوں کے احتساب کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔کرپشن کے خلاف احتساب کے اداروں اور قومی اسمبلی نے کچھ نہیں کیا۔حکمران ٹولہ قیادت کیلئے صادق اور امین ہونا ضروری نہیں سمجھتا حالانکہ یہ آئینی تقاضا ہے ۔معاشی دہشت گردوں کے خلاف بھی نیشنل ایکشن پلان کی طرز پر آپریشن ہونا چاہئے ۔ بعدازاں سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بھی گفتگو کی۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ اور پانامہ کیس میں جماعت اسلامی کے وکیل آصف توفیق بٹ بھی موجود تھے ۔
سراج الحق نے کہا کہ جس بردباری اور تحمل سے معزز جج صاحبان نے ہمیں سنا ہے اس سے حوصلہ ملا ہے اوریقین پختہ ہوگیا ہے کہ قوم کی تقدیر بدلنے والی ہے ۔انہوںنے کہا کہ سرکاری ادارے حکمرانوں کے ہاتھوںمیں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور آج تک حکمران ٹولے کو کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کے کھربوں روپے کے اثاثے کیسے بن گئے جبکہ قوم کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہتھکڑیا ں اور پاﺅں میں غلامی کی زنجیریں پہنا دی گئی ہیں،قومی ادارے سٹیل ملز ،واپڈا ،پی آئی اے ،ریلوے خسارے میں جبکہ حکمران خاندان کی سٹیل ملز مسلسل اربوں روپے کا منافع دے رہی ہیں ،ہم نے وزیر اعظم سے عرض کیا تھا کہ ان کے پاس مٹی سے سونا بنانے کا جو الہ دین کا چراغ ہے وہ قوم کو بھی چند دن کیلئے مستعار دے دیں تاکہ ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ہتھکڑیوں سے آزادی حاصل کرسکیں ۔غریب غربت کی چکی اور مہنگائی میں پس رہا ہے اور حکمران عیاشیاں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے آٹھ ماہ میں کرپشن کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ،ہم نے ہر ادارے پر دستک دی مگر ہر جگہ سے مایوسی ہوئی ۔جب ادارے کچھ کرنے کو تیارنہ ہوں تو پھر عوام کے پاس اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہتا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم رائٹ اور لیفٹ کی بجائے رائٹ اور رانگ کی بنیاد پر فیصلے چاہتے ہیں اور یہ صرف عدالت کرسکتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کیلئے انبیاءکو کتاب اور میزان دیکر بھیجا ،اب یہی اہم ترین فریضہ معزز جج صاحبان کا ہے ،ہم ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔اب عدل کا ترازو سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے اور قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کو بھی اپنے پاﺅں پر کلھاڑامارنے اورقومی خزانہ لوٹنے والوں کو ووٹ دے کر برسر اقتدار لانے کارویہ چھوڑدینا چاہئے ،جن کرپٹ سیاسی اور معاشی دہشت گردوں کو انہوں نے70سال سر پر بٹھائے رکھا وہی ان کی خوشیوں کے قاتل اور انہیں محرومیوں کے جال میں پھنسانے والے ہیں ،ان سیاسی مداریوں سے اب کسی کو کوئی امید نہیںرکھنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قوم کو دیانتدار اور خوف خدا رکھنے والی قیادت مہیا کرے گی،قوم آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی کا ساتھ دے تو ہم ملک سے کرپشن کے ناسور کو ہمیشہ کیلئے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar