ماہرین فلکیات نے خلا کی وسعتوں میں ایسی چیز دریافت کر لی کہ انسان دنگ رہ گیا

برسلز(نیوز ایجنسیاں)ماہر فلکیات نے ایک ستارے کے گرد زمین کے حجم کے سات سیاروں کو گردش کرتے ہوئے دریافت کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تحقیق دانوں نے بتایاکہ ان ساتوں سیاروں پر مائع پانی ہونے کے امکانات ہیں تاہم اس کا دارومدار ان سیاروں کی دیگر خاصیات پر ہے۔ماہرین کے مطابق ان سات سیاروں میں سے تین خلا میں اس جگہ گردش کر رہے ہیں جہاں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ سیارے قابل رہائش ہوں گے۔ستارے ٹریپسٹ ون زمین سے 40 شمسی سال کے فاصلے پر ہے۔شائنسی جریدے نیچر کے مطابق ان سیاروں کو ناسا کی سپٹزر سپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر آبزرویٹریز نے دریافت کیا ہے۔ بیلجیئم یونیورسٹی کے مائیکل گلن کا کہنا تھاکہ یہ ساتوں سیارے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور ستارے کے بھی بہت قریب ہیں جو کہ مشتری کے چاندوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے باوجود ستارہ کافی چھوٹا ہے اور سرد ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ ان سیاروں پر مائع پانی ہو اور ممکنہ طور پر زندگی کے آثار۔ان سیاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے تین سیارے خلا میں اس جگہ گردش کر رہے ہیں جہاں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ سیارے قابل رہائش ہوں گے۔ماہر فلکیات کا کہناتھا کہ ان سیاروں کی فضا کا مشاہدہ ٹیلی سکوپ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کو موقع ملے گا کہ ان سیاروں کی فضا کا جائزہ لے سکیں اور اگر اس میں او زون کے آثار ملتے ہیں تو یہ بات ان سیاروں پر زندگی کے آثار کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar